میرے قائد کی بیٹی


لندن میں15 اگست 1919ء کی نصف شب کو پیدا ہونے والی میرے قائد کی بیٹی ” دینا جناح” 2 نومبر 2017 کو نیویارک میں 98 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پرنٹ ،الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ سوشل میڈیا کی سب سے معروف ترین سائٹ فیس بُک پر بھی مختلف پیجز نےدینا واڈیا کی تصاویر پوسٹ کیں۔

میری نظر بھی ایسی ہی چند پوسٹ کے کمنٹس سیکشن پر پڑ گئی ، جسے پڑھنے کے بعد مجھے پاکستان کے مخصوص طبقےکی سوچ رکھنے والے افراد کیسوچ کا اندازہ ہو ا۔ نام نہاد وطن کی محبت سے سرشار کچھ پاکستانیوں کا خیال تھا کہ دینا واڈیا کے انتقال کی خبر پاکستان کے میڈیا کیلئے اہم نہیں ہونی چاہیئے۔ چند

لوگوں کے مطابق تو دینا واڈیا اپنے والد کی نافرمانی کر نے،مذہب بدلنے،ایک پارسی سے شادی کرنےاور قائدِ اعظم کی جانب سے عاق کرنےکے بعد تمام پاکستا نیوں کیلئے قابلِ نفرت ہستی ہیں۔

لیکن میں ان تمام پاکستانیوں سے ایک سوال کرنا چاہتی ہوں۔کہ آج اگر قائدِ اعظم زندہ ہوتے تو کیا اپنی واحد اولاد کی موت پر پیارے پا کستانیوں کے خیالات جان کر انکا دل خون کے آنسو نہ روتا؟بے شک اصول پسند محمد علی جناح نے مذہب بدلنے پر اپنے جگر گوشے کو عاق کیا تھا لیکن پھر بھی کوئی اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا کہ ناراضگی کے باوجود انکے دل میں اپنی اولاد کیلئے محبت ضرور موجود ہوگی۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ہمارے پیارے قائدِ اعظم پاکستانیوں کیلئے ہیرو تو تھے ہی لیکن وہ ایک انسان بھی تھے جن کے ساتھ بیٹے،بھائی، شوہر اور باپ جیسے رشتے بھی منسلک تھے۔ دینا جناح کو عاق کرنے کا فیصلہ ہمارے قائد کا ذاتی فیصلہ تھا اور انکا یہ اقدام کسی بھی پاکستانی کو ان انکی بیٹی سے نفرت کرنے کا

حق نہیں دیتا۔ محبت اور عقیدت کا ایک اصول احترام بھی ہوتا ہے۔ محب پر لازم ہوتا ہے کہ محبوب سے منسلک ہر چیز سے محبت کی جائے ۔دینا واڈیا تو پھر ایک جیتی جاگتی انسان تھیں میرے قائد کی بیٹی تھیں۔ مجھےان سے نفرت نہیں۔ مجھے تو ان میں قائد کی شخصیت اور فاطمہ جناح کی تربیت کی جھلک نظر آتی تھی۔

انکا رعب دار چہرہ اور قائد کی شباہت ان سے نفرت کرنے ہی نہیں دیتی۔ قائدِ اعظم نے دینا واڈیا کوعاق کرنے کے بعد ان سے کبھی ملاقات کی یا نہیں اس کے بارے میں بہت سی باتیں مشہور ہیں۔

کچھ لوگوں کے مطابق شادی کے بعد دینا واڈیا نےاپنے والد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر محمد علی جناح صاحب نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا ،حتی کہ وہ دینا واڈیا کے خطوط تک کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ قائدِ اعظم نے ناراضگی کے باوجود پاکستان کے معرضِ وجود میں

آنے سے پہلے اپنی بیٹی سے ملاقات کی تھی اور وہ خطوط میں دینا واڈیا کو مسز واڈیا کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ حقیقت چاہے جو بھی ہو۔

میرے پیارے قائد نے اپنی بیٹی سے ملاقات کی ہو یا نہ کی ہو۔تھیں تو وہ ان کی بیٹی ہی اور یقیناًاپنے آخری وقت میں انہوں نے دل ہی دل میں اپنی واحد اولاد کو

یاد کیا ہی ہوگا۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ قریب المرگ انسان کو اپنے پیارے یاد آتے ہیں۔ وہ انسان جو آخری سانس تک برصغیر کے مسلمانوں کی پاکستان کی اورکشمیر کی فکر کرتا رہا کیا ہم پر فرض نہیں ہے کہ بانیِ پاکستان کی بیٹی کو محض لفظوں کے ذریعے ہی عزت دی جائے۔

ہمارے نابینا سیکورٹی کیمرے
انسا نوں کی یہ دنیا جس میں اربوں انسان بستے ہیں ہر انسان کی سوج ‘ کردار اور ز ند گی گز ارنے کے طر یقے الگ الگ ہیں سا رے انسان ایک جیسے نہیں ہو سکتے سارے پاکیز ہ و نیک عمل بھی نہیں ہو سکتے ہیں ۔ اچھا ئی اور برائی کا وجو د انسانوں کے کر دار سے ہی دنیا میں مو جو د رہے گا ۔ دنیا میں جر م اور

مجر م کو ئی نئی با ت نہیں بلکہ یہ ہر دور اور ہر تہذیب میں مو جو د تھے پہلے سابقہ ادوار میں بھی جر م ہو تے تھے اور مجرم کبھی پکڑے جاتے تھے تو کبھی کہانیوں اور داستانوں کا حصہ بن جاتے ۔لیکن سابقہ اور مو جو دہ دور میں کا فی فر ق ہے پہلے انسا نی آبا دی کم تھی اور جر ائم کی شر ح بھی کم تھی آبا

دی بڑھتی گئی جر ائم بھی بڑھتے گئے پر انے وقتوں میں میں کسی علاقے میں چوری چکاری ہو تی تو پو لیس اور قا نون نافذکر نے اداروں کو اند از ہ جاتا کہ اس میں چوری کو ن کر سکتا ہے یہاں کے نا می گر امی چور کون ہیں ان کے پاس مکمل ریکارڈ مو جو د ہو تا تھا یا پھر اس معا ملے میں علاقے کے کسی

بڑے سے مد د حاصل کی جاتی تھی‘ اس کے علا وہ چور کے کھو رے (یعنی پاؤں کے نشان )کو کھو جی شنا خت کر تا اور کھو را یعنی قدموں کے نشان سے مجر م کی سمت اور چال کا اند از لگا یا جاتا اگر کھو جی نے اس چورکی چا ل کو ز ند گی میں ایک مر تبہ بھی دیکھ چکا ہو تا تو وہ اس کی نشاند ہی کر دیتا

اس کے علاوہ پولیس بدنام اور نامی گر امی جرائم پیشہ افراد کو پکڑ کر کھوجی کے سامنے چلایا جاتا کھوجی ان کے چال کے اند از سے اس مطلو بہ شخص کی نشاند ہی کر دیتا تھا ۔وقت کے ساتھ سا تھ یہ نظام بھی بے کا ر ثا بت ہو نے لگا مجر م اپنی چال بدل کر واردت کر تے یا پھر کھوجی چوروں کے ساتھ مل جاتا اسے پتہ ہو نے کے باوجو د وہ پو لیس اور متاثرین کو آگا ہ نہ کر تا ۔

کھو جی کے بعد کھو جی کتے مجرم کا کھورا سونگ کر اس کا تعاقب کر تے اور کسی ایسی جگہ پہنچ جاتے جہاں وہ مجرم رہتا ہو یا کسی کے ہاں قیا م کر تا ہو لیکن وقت کے ساتھ یہ بھی نا کارہ ہو گیا اکثر کھو جی کتے غلط نشاند ہی کر نے لگے اور ان کی وجہ سے کئی بے گناہ لوگ مجرم قرار دیے جاتے پیسے کے

لالچی لو گوں نے غیر تربیت یا فتہ کتوں کو مجرموں کی کھو ج کے کا م میں استعمال کرنے لگے جس سے تفتیش کے کام میں مد د دینے والا یہ بھی طر یقہ بے کار ہو نے لگا کیونکہ پو لیس کے پاس کھو جی کتے ہو تے بھی ہیں تو وہ بہت کم تعداد کے علاوہ بارود اور منشیا ت کی شناخت کے لئے ہو تے ہیں کیونکہ مجرموں کی کھو ج کا م پر ائیو یٹ ایجنسیاں کر رہی تھیں جن میں سے اکثر غیر رجسٹر ڈ تھیں ۔

دنیا میں ٹیکنالو جی کا استعمال انسانی فائد ے لئے ہو نے لگا تو جرائم پیشہ افراد بھی جد ید ٹیکنالو جی کا استعمال کر کے پو لیس کی نظروں سے بچنے کی کو شش

کر نے لگے اور ٹیکنا لو جی کی مد د سے جرم کر تے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کے تمام جرائم پیشہ افراد ٹیکنالو جی کو استعمال کر تے ہو ئے جرم کر تے ہیں روایتی طر یقے سے بھی جرم ہو تے ہیں اگر ایک طر ف دنیا کے کسی کو نے میں ہیکر زہز اروں میل دور کوئی ورات کرتے ہیں تو سٹر یٹ کرائم ‘ڈکیتی ‘اغواء

‘ چوری ‘ مو یشی جوری جیسے جر م بھی ہو رہے ہیں بس ان مجرموں نے کچھ اپنے طر یقہ واردات تبدیل کر لئے ہیں لیکن اس کے با وجو د پو لیس ان کو پکڑنے میں کا میا ب رہتی ہے جو نہیں پکڑے جاتے تو وہ جرم سے توبہ تو نہیں کر لیتے ان کی عادت تو بنی ہو تی ہے وہ کسی نہ کسی مو ڑ پر پو لیس گرفت میں آجاتے ہیں

جرائم کی روک تھام کے لئے دنیا میں پولیس کے نظام کو جدید بنایا جارہا ہے سانئسی بنیا دوں پر تفتیش کی جارہی ہے فنگر پر نٹ کاریکارڈ ‘ ڈی این اے سے مد د ‘ اور ملزمان کا ڈیٹا بیس تیار کر کے مختلف اداروں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے اور پولیس کی اپنی فرنزک لیب بنا ئی جاتی ہیں جس میں تمام سائنسی شعبہ جات کے

ماہر ین کے ساتھ آئی ٹی ایکسپرٹ مو جو د ہو تے ہیں ۔ لیکن ان سب طر یقہ کارے کے باوجو د سب سے اہم چیز جو مجر موں کو پکڑنے اور شنا خت میں کارآمد ثابت ہو نے کے ساتھ واردات میں کمی کا بھی سبب بن رہی ہے وہ ہیں جگہ جگہ لگے سیکورٹی کیمرے جو چوبیس گھنٹے ہر آنے جانے اور ہر حرکت کو ریکارڈ کر

رہے ہو تے ہیں ۔پوری دنیا میں اب ان کی ہی مد د سے مجرموں کو پکڑا جاتا ہے بلکہ کسی بھی جر م ہونے کے چند گھنٹے بعد مجرم پو لیس کی گر فت میں ہوتا ہے ۔

What's Your Reaction?

Cry Cry
0
Cry
Cute Cute
0
Cute
Damn Damn
0
Damn
Dislike Dislike
0
Dislike
Like Like
0
Like
Lol Lol
0
Lol
Love Love
0
Love
Win Win
0
Win
WTF WTF
0
WTF

Comments 0

Your email address will not be published. Required fields are marked *

میرے قائد کی بیٹی

Choose A Format
Personality quiz
Series of questions that intends to reveal something about the personality
Trivia quiz
Series of questions with right and wrong answers that intends to check knowledge
Poll
Voting to make decisions or determine opinions
Story
Formatted Text with Embeds and Visuals
List
The Classic Internet Listicles
Countdown
The Classic Internet Countdowns
Open List
Submit your own item and vote up for the best submission
Ranked List
Upvote or downvote to decide the best list item
Meme
Upload your own images to make custom memes
Video
Youtube, Vimeo or Vine Embeds
Audio
Soundcloud or Mixcloud Embeds
Image
Photo or GIF
Gif
GIF format