جب انگریز افسر نے دفتری اوقات میں نماز پڑھنے سے روک دیا تو سرسید احمد خان نے اپنے عقیدت مند کو ایسا خط لکھ ڈالا جس کی کوئی مسلمان توقع نہیں کرسکتا تھا


غیر مسلموں کے زیر سایہ ملازمت کرنے والے مسلمانوں کو ماضی میں اورآج بھی کسی نہ کسی صورت نماز کی ادائیگی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ایمان کی کمزوری کی وجہ سے وہ معاملہ فہمی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سرسید خان کے زمانے میں ایک ایسا واقعہ انکی نظر سے گزرا جب مسلمانوں کی معتمد اور انکی عقیدت مند شخصیات کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے انہیں سرزنش کرتے ہوئے ایسا خط لکھ ڈالا جس پر علمااور عام مسلمانوں نے حیران کن حد تک سراہا تھا ۔کیونکہ اس زمانے میں اچھی نوکری ترک کرنا آساں نہیں تھا جبکہ مسلمان کاروبار اور ملازمتوں میں انگریزوں کے محتاج تھے۔

نواب وقار الملک، مولوی مشتاق حسین روزہ نماز کے سختی سے پابند تھے۔ نماز کا وقت ہوتا تو وہ اپنا کام روک کر بلا تامل نما زکو چلے جاتے۔ ان کے انگریز افسر کو یہ بات ناگوار گزری۔ انہوں نے مولوی صاحب کو دفتر کے اوقات میں نماز کے لئے جانے سے روکا۔

انہوں نے جواب میں کئی صورتیں پیش کیں’’ نماز میں صرف ہونے والے وقت کی تنخواہ کاٹ لی جائے، ملازمت سے رخصت دی جائے۔ یہ دونوں نامنظور ہوں تو استعفیٰ قبول کیا جائے‘‘
سر سید کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے مولوی صاحب کے نام ۹ جنوری ۱۸۷۵ء کو ایک معرکہ آرا خط تحریر کیا۔

’’بھائی مشتاق حسین! کل میں سارے دن متردد رہا۔ کیونکہ تمہارا کوئی خط نہیں آیا تھا۔ آج خط آیا اور حال معلوم ہوا۔ گو میں کسی وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور کسی وقت کی نہیں پڑھتا اور وقت بے وقت کا بھی خیال نہیں کرتا۔ دو دو اکٹھی بھی پڑھ لیتا ہوں۔ ریل میں لمبا سفر ہو تو مجھ سے ادا نہیں ہوتی،

یہ سب باتیں مجھ میں ہیں اور نالائقی و شامت اعمال سے ایسی سستی نماز میں ہے مگر اس معاملے میں جو پیش آیا تم نے نہایت عجز کیا۔ نماز جو خدا کا فرض ہے، اس کو ہم اپنے شامت اعمال سے جس خرابی سے ہو، ادا کریں یا قضا کریں۔ لیکن کوئی شخص اگر کہے کہ تم نماز نہ پڑھو، اس کا صبر ایک لمحے بھی نہیں ہو سکتا۔

یہ بات سنی بھی نہیں جا سکتی۔ میری سمجھ میں نماز نہ پڑھنا صرف گناہ ہے۔ جس کے بخشے جانے کی توقع ہے اور اگر کسی شخص کے منع کرنے سے نہ پڑھنا یا سستی میں ڈالنا میری سمجھ میں کفر ہے۔ جو کبھی بخشا نہ جائے گا۔ تم کو پہلے ہی اپنی طرف سے ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہئے تھا جو کبھی اس قسم کی بحث نہ آتی۔

اور جب ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا تو پھر لجلجانا اور گڑگڑانا اور حضور رخصت ہی دیں، تنخواہ کاٹ لیں کہنا واہیات تھا۔ تڑاق پڑاق استعفیٰ دینا تھا اور صاف کہہ دینا تھا کہ میں اپنے عظیم الشان قادر مطلق کے حکم کی اطا اعت کروں گا نہ کہ آپ کی۔ کیا ہوتا ، نوکری نہ میسر آتی، فاقہ سے مر جاتے تونہایت اچھا ہوتا۔
والسلام خاکسار سید احمد، بنارس ۹ جنوری ۱۸۷۵ء‘‘

What's Your Reaction?

Cry Cry
0
Cry
Cute Cute
0
Cute
Damn Damn
0
Damn
Dislike Dislike
0
Dislike
Like Like
0
Like
Lol Lol
0
Lol
Love Love
0
Love
Win Win
0
Win
WTF WTF
0
WTF

Comments 0

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جب انگریز افسر نے دفتری اوقات میں نماز پڑھنے سے روک دیا تو سرسید احمد خان نے اپنے عقیدت مند کو ایسا خط لکھ ڈالا جس کی کوئی مسلمان توقع نہیں کرسکتا تھا

Choose A Format
Personality quiz
Series of questions that intends to reveal something about the personality
Trivia quiz
Series of questions with right and wrong answers that intends to check knowledge
Poll
Voting to make decisions or determine opinions
Story
Formatted Text with Embeds and Visuals
List
The Classic Internet Listicles
Countdown
The Classic Internet Countdowns
Open List
Submit your own item and vote up for the best submission
Ranked List
Upvote or downvote to decide the best list item
Meme
Upload your own images to make custom memes
Video
Youtube, Vimeo or Vine Embeds
Audio
Soundcloud or Mixcloud Embeds
Image
Photo or GIF
Gif
GIF format